باری[4]

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - پیدا کرنے والا، عدم سے وجود میں لانے والا، اللہ تعالیٰ۔ "پہلے وجود باری کا اثبات کیا جائے، اس کے بعد نبوت - سب کچھ ثابت ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٥٠:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے اسم فاعل مشتق ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢١ء میں "خالق باری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیدا کرنے والا، عدم سے وجود میں لانے والا، اللہ تعالیٰ۔ "پہلے وجود باری کا اثبات کیا جائے، اس کے بعد نبوت - سب کچھ ثابت ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٥٠:٣ )

اصل لفظ: برء
جنس: مذکر